Responsive Menu
Add more content here...

فورٹ منروسیاحتی مقام یا مجرمانہ پناہ گاہ؟

سیاحتی مقام یا لاقانونیت کی آماجگاہ؟

فورٹ منرو ، جو کوہِ سلیمان کے سلسلے میں واقع جنوبی پنجاب کا واحد “ہل اسٹیشن” ہے، اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے ایک اہم سیاحتی مقام ہے۔ تاہم، حالیہ عرصے میں یہاں امن و امان کی صورتحال اور مجرمانہ سرگرمیوں کے حوالے سے اٹھنے والے خدشات نے اس کے تاثر کو متاثر کیا ہے۔فورٹ منرو تین صوبوں (پنجاب، بلوچستان، اور خیبر پختونخوا) کے سنگم پر واقع ہے۔ پہاڑی راستوں اور مشکل جغرافیہ کی وجہ سے مجرمان کے لیے ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں فرار ہونا آسان ہوتا ہے۔
 علاقے کی وسیع و عریض اور مشکل جغرافیائی ساخت کی وجہ سے پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی نگرانی محدود رہتی ہے۔ دور دراز کے دیہی اور پہاڑی علاقے اکثر حکومتی رٹ سے باہر محسوس ہوتے ہیں، جہاں مجرمان چھپ سکتے ہیں۔
 آبادی کے پھیلاؤ کے مقابلے میں سیکیورٹی نفری کی کمی اور جدید آلات (جیسے سی سی ٹی وی کیمرے نہ ہونا مجرموں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا ہے۔
 تعطیلات کے دوران سیاحوں کا رش ہونے سے انتظامیہ کی توجہ کنٹرول سے ہٹ جاتی ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر غیر مشکوک انداز میں یہاں نقل و حرکت کرتے ہیں۔
فورٹ منرو کو محض “مجرموں کا مرکز” کہنے کے بجائے، اسے ایک “انتظامی چیلنج” قرار دینا زیادہ مناسب ہے۔ یہ علاقہ اپنی سٹریٹجک اہمیت کے باوجود وسائل کی کمی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے یہ جرائم پیشہ عناصر کے لیے ایک سہولت کار ثابت ہو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں سیکیورٹی کو سخت کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال اور باہمی صوبائی پولیس تعاون کو بڑھایا جائے تاکہ اس سیاحتی مقام کی افادیت کو بحال کیا جا سکے۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس علاقے میں سیکیورٹی کی بہتری کے لیے مقامی سطح پر کسی خاص اقدام کی سب سے زیادہ ضرورت ہےفورٹ منرو، جو کبھی جنوبی پنجاب کا پرسکون اور دلکش ہل اسٹیشن ہوا کرتا تھا، آج اپنی بنیادی شناخت کھو چکا ہے۔ سیاحت کی آڑ میں یہاں جنم لینے والی سماجی برائیاں اور بڑھتی ہوئی لاقانونیت اس علاقے کو ایک ‘خطرناک زون’ میں تبدیل کر رہی ہیں۔ اس صورتحال کو محض ایک انتظامی غفلت نہیں، بلکہ ایک منظم بگاڑ کہا جا سکتا ہے 
علاقے میں اسلحے کی سرعام نمائش ایک معمول بن چکی ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ یہاں اسلحہ چند لمحوں کے لیے کرائے پر فراہم کرنے کا کاروبار بھی فروغ پا رہا ہے، جو کسی بھی وقت بڑے سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ عمل سیاحوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔
مقامی آبادی کے کچھ حلقوں کی طرف سے سرعام جوے کے اڈوں کا قیام علاقے کے اخلاقی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف مقامی نوجوان نسل کو بگاڑ رہی ہیں بلکہ علاقے کے مجموعی ماحول کو بھی داغدار کر رہی ہیں۔
مقامی افراد کی جانب سے ہر شاہراہ، ویرانے یا آبادی کے قریب گاڑی کھڑی کرنے پر ‘ناجائز پارکنگ فیس’ کا مطالبہ ایک قسم کی بھتہ خوری ہے۔ سیکڑوں روپے کی یہ جبری وصولی سیاحوں کے ساتھ بدتمیزی اور دھونس کے ذریعے کی جاتی ہے، جس سے سیاحت کا شعبہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
فورٹ منرو کے ہوٹل، جو سیاحوں کے قیام کے لیے بنائے گئے تھے، اب رفتہ رفتہ “عیاشی کے اڈوں” میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ سیاحتی سہولیات کے نام پر یہاں غیر اخلاقی سرگرمیوں کا فروغ اس علاقے کی خاندانی سیاحت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
فورٹ منرو کو جرائم کا مرکز یا مجرموں کی پناہ گاہ بننے سے روکنے کے لیے اب نمائشی اقدامات نہیں بلکہ “سخت ایکشن” کی ضرورت ہے۔ جب تک اسلحہ برداروں، جواریوں اور بھتہ خوروں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں ہوتی اور ہوٹلوں میں جاری غیر اخلاقی سرگرمیوں کو قانون کی گرفت میں نہیں لایا جاتا، تب تک اس ہل اسٹیشن کی بحالی ایک خواب ہی رہے گی۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی “مجرمانہ خاموشی” توڑیں اور علاقے میں قانون کی عملداری کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں۔فورٹ منرو کی ایک اور تاریک حقیقت اس کا “اسمگلنگ کا گڑھ” بننا ہے۔ تین صوبوں کے سنگم اور پہاڑی راستوں کی بدولت، یہ علاقہ غیر قانونی تجارت کے لیے ایک محفوظ کوریڈور کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ یہاں سے ایرانی تیل، منشیات، اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی بڑی مقدار میں نقل و حمل ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
  مقامی سطح پر موجود کچھ بااثر عناصر اور اسمگلرز کا گٹھ جوڑ سیکیورٹی اداروں کی چیک پوسٹوں کو بھی غیر مؤثر بنا دیتا ہے۔ یہ نیٹ ورک نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے، بلکہ علاقے میں اسلحہ اور دیگر جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کا بنیادی سبب بھی ہے۔
 یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اسمگلنگ کا یہ کاروبار مقامی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والے عناصر اور بعض بدعنوان حکومتی عہدیداروں کی مبینہ سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا متوازی نظام بن چکا ہے جو قانونی رٹ کو چیلنج کر رہا ہے۔

فورٹ منرو، جو کوہِ سلیمان کے سلسلے میں جنوبی پنجاب کا واحد “ہل اسٹیشن” ہے، اپنی قدرتی خوبصورتی کی بدولت سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام تھا۔ مگر افسوس کہ آج یہ خوبصورت وادی جرائم، اسمگلنگ اور لاقانونیت کا گڑھ بن چکی ہے۔اس رپورٹ کا مقصد علاقے کے بگڑتے ہوئے حالات کی جانب حکامِ بالا کی توجہ مبذول کرانا ہے۔کہ علاقے میں مستقل پولیس چیک پوسٹس اور گشت کا نظام فعال کیا جائے۔
  غیر قانونی راستوں کی بندش اور کسٹم/پولیس کا مشترکہ آپریشن۔
 سیاحوں سے بدتمیزی اور بھتہ خوری کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی۔
 ہوٹلوں میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کا باقاعدہ سروے اور کارروائی۔
فورٹ منرو کو جرائم کا گڑھ بننے سے بچانا اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر یہاں قانون کی عملداری بحال نہ کی گئی، تو یہ سیاحتی مقام ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

  • یہ بھی پڑھیں

واپڈا ٹیموں کی انتھک محنت سے تل شمالی اور ملحقہ علاقوں میں بجلی کی بحالی پر ملک ربنواز بدھ کا خراجِ تحسین

  • یہ بھی پڑھیں

مانع حمل گولیاں خواتین میں ہارمونز کے اتار چڑھاؤ کا سبب بنتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *