سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مانع حمل گولیوں کا باقاعدہ استعمال خواتین میں شدید ہارمونل اتار چڑھاؤ کا سبب بنتا ہے
جس سے نہ صرف موڈ کی خرابی اور ذہنی تناؤ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں بلکہ بعض خواتین کے لیے یہ گولیوں کا کثرت سے استعمال خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکہ اور کینیڈا کے طبی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان گولیوں کے استعمال سے خواتین کے جسم میں ہارمون ‘ایسٹروجن کی سطح تیزی سے گر جاتی ہے جبکہ ‘پروجیسٹرونکی مقدار میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔
مشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں 422 خواتین کو شامل کیا گیا۔ ماہرین نے 49 دنوں تک ان خواتین کی صحت، ہارمونز کی سطح اور نفسیاتی رویوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ مانع حمل گولیوں کے استعمال سے خواتین کو درج ذیل مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے:
-
گولیوں کے استعمال سے خواتین میں موڈ کا تیزی سے بدلنا اور ذہنی تناؤ جیسے مسائل عام دیکھے گئے۔
-
ان گولیوں میں ایسٹروجن اور پروجسٹن دونوں شامل ہوتے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ مصنوعی ہارمونز استعمال کے بعد کئی گھنٹوں سے لے کر کئی دنوں تک خواتین کے جسم میں موجود رہتے ہیں اور اندرونی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ جو خواتین زیادہ مقدار یا طویل عرصے تک مانع حمل گولیوں کا استعمال کرتی ہیں، ان میں یہ ہارمونل عدم توازن تشویشناک حد تک بڑھ سکتا ہے جو ان کی مجموعی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
“ماہرین کا کہنا ہے کہ ان گولیوں میں موجود کیمیکلز جسم کے قدرتی نظام کو تبدیل کر دیتے ہیں، جس کے اثرات ہر خاتون کی باڈی پروفائل کے حساب سے مختلف ہو سکتے ہیں۔”