انسانوں کے بعد اب روبوٹس بھی سڑکوں پربھیک مانگتےھوئے
کیا یہ ‘مصنوعی ذہانت’ کا مذاق ہے یا ایک نیا سوشل تجربہ؟ تحقیقی رپورٹ: سمعیز نیوز
جام پور/بیجنگ: کیا ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سڑکوں پر بیٹھا بھکاری انسان نہیں بلکہ ایک قیمتی مشین ہے؟
چین کے مختلف شہروں میں حالیہ دنوں میں ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹس کی سڑک پر بیٹھ کر بھیک مانگنے کی تصاویر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔لیکن، کیا یہ واقعی اے آئی کا خوفناک مستقبل ہے، یا صرف ایک ڈرامائی مارکیٹنگ اسٹنٹ؟ٹیکنالوجی کی دنیا سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ ‘یونی ٹری’ جیسے جدید روبوٹس کی قیمت لاکھوں میں ہوتی ہے۔ انہیں سڑک کی دھول اور موسم کے رحم و کرم پر بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دینا، کسی بھی منطقی عقل سے باہر کی بات ہے۔ اگر ہم اسے ایک عام خبر کے طور پر دیکھیں تو یہ مضحکہ خیز لگتا ہے، لیکن اگر اسے ایک “تخلیقی احتجاج” یا “سوشل پرفارمنس” کے طور پر دیکھا جائے، تو کہانی بدل جاتی ہے۔ جب ہم اس واقعے کو گہرائی سے دیکھتے ہیں تو تین امکانات ابھر کر سامنے آتے ہیں . اکثر کمپنیاں اپنی مصنوعات کو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنانے کے لیے ایسے عجیب و غریب مناظر تخلیق کرتی ہیں۔ روبوٹ کے ہاتھ میں کیو آر کوڈ کا ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کسی ڈیجیٹل پیمنٹ ایپ کی تشہیر کا حصہ ہو سکتا ہے۔یہ ممکنہ طور پر ایک فنکارانہ کوشش ہو سکتی ہے جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ انسانوں نے اپنی زندگی کا ہر پہلو، یہاں تک کہ جذبات اور بھیک مانگنے جیسی مجبوریاں بھی مشینی دنیا کے حوالے کر دی ہیں۔ موجودہ دور میں خبروں کو سنسنی خیز بنا کر پیش کرنا ایک کاروبار بن چکا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ تصاویر محض کسی پلیٹ فارم پر ‘گیجمنٹ’ حاصل کرنے کے لیے تیار کی گئی ہوں۔ سچ یہ ہے کہ اس خبر میں “مشینی بھکاری” سے زیادہ “انسانی نفسیات” کی کہانی ہے۔ اگر یہ روبوٹس سڑکوں پر ہیں، تو یہ خود روبوٹ کی ضرورت نہیں بلکہ انسان کی وہ نفسیاتی کیفیت ہے جو ان تصویروں کو دیکھ کر جذباتی ہو رہا ہے۔ کیا اے آئی کے اس دور میں اب ہم خبروں کی تصدیق کے بغیر ان پر یقین کرنے لگے ہیں؟ یہ روبوٹس سڑکوں پر ہیں یا نہیں، یہ ثانوی بات ہے۔ اہم یہ ہے کہ ہم نے خود کو اس حد تک مشینی کر لیا ہے کہ اب ایک مشین کے بھیک مانگنے کو بھی خبر ماننے پر مجبور ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ روبوٹس واقعی مجبور ہیں، یا یہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کوئی نیا کھیل ہے؟ ہمیں کمنٹس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں۔