Responsive Menu
Add more content here...

’نچ پنجابن‘ کیسے بنا سدا بہار ہٹ؟ ابرار الحق نے ’پنجابی ٹچ‘ کی کہانی سے پردہ اٹھا دیا

Spread the love

لاہور: پاکستان کے مایہ ناز گلوکار اور پاپ آئیکون ابرار الحق نے اپنے شہرہ آفاق گانے ’نچ پنجابن‘ کی تخلیق کے حوالے سے ایک انتہائی دلچسپ اور غیر معمولی واقعہ شیئر کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس گانے کی سب سے مشہور لائن دراصل ایک گھریلو گفتگو اور کزن کی تنقید کا نتیجہ تھی۔

ایک حالیہ یوٹیوب انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ابرار الحق نے ماضی کی یادیں تازہ کیں اور بتایا کہ جب وہ اس گانے کی تیاری کر رہے تھے، تو ابتدائی طور پر اس کے بول بالکل مختلف تھے۔

وہ شروع میں کچھ اس طرح کی لائنیں لکھ رہے تھے:

“میری سائیکل ہولی چل دی سی، میں گاڈی فل پگھاواں گا، سائیکل تے بندے دو بندے، میں پوری قوم بٹھا منگاں۔”

ابرار الحق نے بتایا کہ جب انہوں نے ان ابتدائی بولوں کو لکھنے کے بعد اپنے کزن ’ٹیپو‘ سے اس پر رائے مانگی اور پوچھا کہ “ٹیپو! یہ کیسا لگ رہا ہے؟” تو کزن نے روایتی پنجابی بے تکلفی سے کام لیتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ “گانا تو اچھا ہے، لیکن اس میں وہ مخصوص ’پنجابی ٹچ‘ محسوس نہیں ہو رہا۔”

کزن کی یہی تنقید ابرار الحق کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔ انہوں نے کزن کے انہی الفاظ کو تخلیقی رنگ دیا اور فوری طور پر گانے میں “گانے نوں دے دے پنجابی ٹچ” کا جملہ شامل کر دیا، جس کے بعد اس میں “نچ پنجابن نچ” کا جادو جگایا گیا۔

یوں ایک کزن کا مخلصانہ مشورہ اور ابرار الحق کی برجستگی نے مل کر ایک ایسا شاہکار تخلیق کیا جس نے ریلیز ہوتے ہی عالمی سطح پر مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور آج دو دہائیاں گزرنے کے بعد بھی یہ گانا ہر شادی اور تقریب کی جان سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پیٹ کی چر بی کم کر نے کے لیے کون سا بیج زیادہ مؤثر ہے؟ ماہرینِ غذائیت نے فرق بتا دیا

یہ بھی دیکھیں

راکھی ساونت نے اداکارہ کنگنا رناوت کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں مشورہ دے دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *