Responsive Menu
Add more content here...

تارکینِ وطن اغوا، اعضاء نکالنے کی دھمکیاں اور ہولناک تشدد کا انکشاف

دل دہلا دینے والی تحقیقاتی رپورٹ

غیر قانونی راستوں سے برطانیہ پہنچنے کے خواب دیکھنے والے تارکینِ وطن ایک ہولناک ڈراؤنے خواب کا شکار ہو گئے۔ برطانوی میڈیا کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ساڑھے تین سو سے زائد مسافروں کو راستے میں ہی اغوا کر کے بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور رقم نہ دینے کی صورت میں ان کے جسمانی اعضاء تک نکالنے کی وحشیانہ دھمکیاں دی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق اغوا ہونے والوں میں عراقی کردستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کا ایک بڑا گروپ شامل ہے، جنہیں لیبیا کے صحراؤں میں مسلح جرائم پیشہ افراد نے یرغمال بنا لیا۔

  •  مغویوں کو ایک ایسے چھوٹے اور اندھیرے سیل میں 6 ماہ تک بند رکھا گیا جہاں گنجائش سے کہیں زیادہ لوگ ٹھونسے گئے تھے اور روشنی کا کوئی گزر نہ تھا۔

  • مسلح اغوا کاروں نے نوجوانوں پر وحشیانہ تشدد کی ویڈیوز بنا کر ان کے اہل خانہ کو بھیجیں تاکہ انہیں خوفزدہ کر کے رقم بٹوری جا سکے۔

تلخ حقائق: 37 سو پاؤنڈ تاوان اور گردے نکالنے کا خوف

مغویوں کے خاندانوں سے فی کس 37 سو برطانوی پاؤنڈ بھتے کا مطالبہ کیا گیا۔ متاثرہ نوجوانوں نے بتایا کہ اغوا کاروں نے صاف الفاظ میں دھمکی دی تھی کہ اگر تاوان کی رقم وقت پر نہ پہنچی تو ان کے گردے نکال کر مارکیٹ میں بیچ دیے جائیں گے۔

مسلح گروہ ان تمام مغویوں کو بحیرۂ روم کے ساحل پر منتقل کرنا چاہتا تھا، جہاں سے انہیں کشتیوں کے ذریعے آگے بھیجا جانا تھا، لیکن رقم کی تقسیم پر مرکزی اسمگلر “نوح ہارون” اور اغوا کاروں کے درمیان تنازع کھڑا ہو گیا جس سے یہ پورا معاملہ طشت از بام ہو گیا۔

ایک مغوی نوجوان کے والد نے میڈیا کو بیانات دیتے ہوئے اس ہولناک کھیل کے پسِ پردہ کرداروں کو بے نقاب کیا

  • نوح ہارون اور اس کا قریبی ساتھی کارڈوجاف اس بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کو چلا رہے ہیں۔

  •  انہوں نے معصوم شہریوں کو بحفاظت برطانیہ پہنچانے کا جھانسا دے کر ان کے خاندانوں سے ہزاروں ڈالرز ہڑپ کیے۔

  • یہ بھی پڑھیں

جام پور میں ایل پی جی مافیا کا راج، سرکاری نرخوں کی دھجیاں اڑنے لگیں

  • یہ بھی پڑھیں

بھارت میں ایک اور تحریک ’خرگوش جنتا پارٹی‘ سامنے آ گئی

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *