0

Heer Ranjha

ہیر رانجھا

ایک مشہور پنجابی لوک کہانی ہے۔ متعدد مصنفین و شعرا نے یہ کہانی لکھی، لیکن ان میں سے سب سے مشہور وارث شاہ کی لکھی ہوئی ہیر وارث شاہ ہے۔ جو 1776ء میں پنجاب میں لکھی گئی۔ اس طرح کی مزید کہانیوں میں سسی پنوں، سوہنی ماہیوال وغیرہ شامل ہیں۔

ہیر ضلع جھنگ میں آباد سیال قبیلے سے تعلق رکھتی اور ایک جٹ لڑکی ہے۔ وہ انتہائی خوبصورت ہے اور علاقہ بھر میں اس جیسی حسین لڑکی نہیں۔ رانجھا بھی جٹ اور دریائے چناب کے کنارے آباد ایک گاؤں تخت ہزارہ کا ہی باسی ہے۔ اس کے تین بھائی کھیتی باڑی کرتے تھے مگر باپ کا چہیتا ہونے کے ناتے وہ جنگلوں میں پھرتا اور ونجلی(بانسری) بجاتا رہتا۔ اس نے اپنی زندگی میں کم ہی دکھ دیکھے تھے۔ جب رانجھے کا باپ مر گیا ،تو اس کا دور ابتلا شروع ہوا۔ پہلے زمین کے معاملات پر اس کا بھائیوں سے جھگڑا ہوا اور پھر بھائیوں نے اسے کھانا دینے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً رانجھا نے اپنا گاؤں چھوڑا اور آوارہ گردی کرنے لگا۔ پھرتے پھراتے وہ ہیر کے گاؤں جا پہنچا اور اسے دیکھتے ہی اپنا دل دے بیٹھا۔ ہیر نے جب اسے بے روزگارپایا،تو رانجھے کو اپنے باپ کے مویشی چرانے کا کام سونپ دیا۔ رفتہ رفتہ رانجھے کی ونجلی نے ہیر کا دل موہ لیااور اس اجنبی سے محبت کرنے لگی۔ آہستہ آہستہ ان کے لیے ایک دوسرے کے بغیر وقت کاٹنا مشکل ہو گیااور وہ راتوں کو چھپ کر ملنے لگے۔ یہ سلسلہ طویل عرصہ جاری رہا۔ ایک دن ہیر کے چچاکیدو نے انہیں پکڑ لیا۔ اب ہیر کے ماں باپ(چوچک اور مالکی) نے زبردستی اس کی شادی سیدے کھیڑے سے کر دی۔
محبت کی نکامی سے رانجھے کا دل ٹوٹ گیا اور وہ دوبارہ آوارہ گردی کرنے لگا۔ ایک دن اس کی ملاقات بابا گورکھ ناتھ سے ہوئی جو جوگیوں کے ایک فرقے ،کن پھٹا کا بانی تھا۔ اس کے بعد رانجھا بھی جوگی بن گیا۔ اس نے اپنے کان چھدوائے اور دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔ وہ گاؤں گاؤں ،نگر نگر پھرتا آخر کار اس دیہہ میں پہنچ گیا جہاں ہیر بیاہی گئی تھی۔ اب رانجھا اور ہیر واپس اپنے گاؤں پہنچ گے۔ بحث مباحثے کے بعد آخر ہیر کے والدین دونوں کی شادی پر رضا مند ہو گئے مگر حاسد کیدو نے عین شادی کے دن زہریلے لڈو کھلا کر ہیر کا کام تمام کر دیا۔ جب رانجھے کو یہ بات معلوم ہوئی،تو وہ روتا پیٹتا اپنی محبوبہ کے پاس بھاگا آیا۔ جب ہیر کو مردہ دیکھا تو زہریلا لڈو کھا کر خودکشی کر لی۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں