برطانیہ کو گرمی کی ایک اور نئی لہر (ہیٹ ویو) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،

Spread the love

برطانیہ میں موسمِ سرما اور بارشوں کے روایتی موسم کے برعکس ایک بار پھر موسمِ گرما کی شدت میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بین الاقوامی موسمیاتی رپورٹس کے مطابق، آئندہ ہفتے برطانیہ کو گرمی کی ایک اور نئی لہر (ہیٹ ویو) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے دوران ملک کے کئی حصوں میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔

ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ جزائرِ ازورس سے پرتگال اور اسپین کی جانب بننے والا ہوا کا شدید ہائی پریشر سسٹم اختتامِ ہفتہ تک فرانس اور جنوبی برطانیہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، جس کے باعث موسم اچانک گرم ہو جائے گا۔

برطانوی محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق، اس سے قبل کا مہینہ (جون) انگلینڈ کی تاریخ کا گرم ترین مہینہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جبکہ پورے برطانیہ کی سطح پر اسے تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ قرار دیا گیا تھا۔ اب جولائی میں بھی گرمی کا یہ سلسلہ برقرار رہنے کی توقع ہے۔

برطانیہ میں قانون کے مطابق ‘ہیٹ ویو’ کا باقاعدہ اعلان اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی بھی خطے میں مسلسل تین دن تک درجہ حرارت وہاں کی مقررہ مخصوص حد سے اوپر رہے۔

  • لندن کے لیے یہ حد 28 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

  • شمالی انگلینڈ کے لیے یہ حد 25 ڈگری سینٹی گریڈ مقرر ہے۔

تازہ ترین پیش گوئی کے مطابق، دارالحکومت لندن میں ہفتے سے لے کر جمعرات تک پارہ مسلسل 28 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا قوی امکان ہے، جس کے باعث ہیٹ ویو کی شرائط پوری ہو جائیں گی۔

شدید دھوپ اور حبس کے پیشِ نظر یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے لندن، ایسٹ مڈ لینڈز، ایسٹ، ساؤتھ ایسٹ اور ساؤتھ ویسٹ انگلینڈ سمیت متعدد اہم علاقوں کے لیے ‘یلو ہیلتھ الرٹ’ (زرد انتباہ) جاری کر دیا ہے۔

حکام نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بدلتا ہوا موسم اور غیر معمولی گرمی عمر رسیدہ افراد، بچوں اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا نازک صحت کے حامل لوگوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کیا جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top