خبردار! الیکٹرک سکوٹی اور بائیکس خریدتے وقت احتیاط کریں:
کہیں آپ کی سواری، آتشزدگی کا سبب نہ بن جائے
دورِ جدید میں الیکٹرک سکوٹی اور بائیکس ماحول دوست ہونے اور ایندھن کی بچت کی وجہ سے ہر خاص و عام کی پسند بن چکی ہیں۔ لیکن، افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں ان گاڑیوں میں آتشزدگی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سڑکوں پر چلتے ہوئے یا گھروں میں چارجنگ کے دوران اچانک آگ لگنے کے واقعات نے صارفین میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
یہ واقعات محض حادثات نہیں، بلکہ ہماری کوتاہی اور مارکیٹ میں موجود غیر معیاری مصنوعات کا نتیجہ ہیں۔ ایک ذمہ دار ادارے کے طور پر، ہم صارفین اور متعلقہ حکام کی توجہ چند اہم پہلوؤں کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں:
صارفین کے لیے اہم حفاظتی تدابیر:
اپنی بائیک کے ساتھ ملنے والے اصل چارجر کا ہی استعمال کریں۔ سستے اور مقامی چارجرز بیٹری کو اوور ہیٹ کر کے آگ کا سبب بن سکتے ہیں۔
بائیک کو رات بھر یا بلا نگرانی چارجنگ پر مت چھوڑیں۔ خاص طور پر سوتے وقت چارجنگ کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر بیٹری پھول رہی ہو یا چارجنگ کے دوران غیر معمولی گرم ہو رہی ہو، تو اسے فوراً کسی ماہر کو دکھائیں، اسے نظر انداز کرنا زندگی کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔

مارکیٹ میں موجود سستی مگر ناقص بیٹریوں والی سکوٹیز خریدنے سے گریز کریں۔ ہمیشہ تسلیم شدہ برانڈز کو ترجیح دیں۔
انتظامیہ اور ڈیلرز سے مطالبہ:
ہم ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک حکام سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکٹرک گاڑیوں کی خرید و فروخت کے لیے “فٹنس سرٹیفیکیشن” کو لازم قرار دیا جائے۔
مارکیٹ میں سیل کے لیے آنے سے پہلے ہر الیکٹرک بائیک کا مکمل ٹیکنیکل فٹنس چیک اپ کیا جائے۔
فٹنس چیک اپ کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو گاڑی کی وائرنگ، بیٹری مینجمنٹ سسٹم (BMS)، اور چارجنگ سسٹم کی جانچ کرے۔
صرف ان گاڑیوں کو فروخت کی اجازت ہونی چاہیے جو معیار پر پورا اترتی ہوں اور جن کے پاس “اوکے سرٹیفکیٹ” موجود ہو۔
یاد رکھیں! آپ کی تھوڑی سی احتیاط اور حکومتی سطح پر سخت ضوابط کا نفاذ سینکڑوں قیمتی جانوں اور املاک کو نقصان سے بچا سکتا ہے۔ الیکٹرک سواری کا مقصد ماحول کو بچانا ہے، نہ کہ اپنے گھروں اور جانوں کو خطرے میں ڈالنا۔
آئیے، اس آگاہی مہم کا حصہ بنیں اور اپنے پیاروں کو محفوظ رکھیں۔
نوٹ: اگر آپ کے علاقے میں بھی الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے، تو ہمیں اطلاع دیں تاکہ ہم اسے حکامِ بالا تک پہنچا کر عوامی تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔

-
یہ بھی پڑھیں
