روسی فوج نے اپنی گاڑیوں پر کالے اور سفید رنگ کی ٹیڑھی میڑھی پٹیوں کا پینٹ کرنا شروع کر دیا ہے، جسے عسکری زبان میں ‘ڈیزل کیموفلاج’ یا زیبرا پیٹرن کہا جاتا ہے۔
ایک صدی گزرنے کے بعد روس کا ماننا ہے کہ کمپیوٹرائزڈ ڈرونز کو پاگل بنانے کے لیے یہ حربہ آج بھی کارآمد ہو سکتا ہے۔کالے اور سفید رنگ کے ان متضاد بلاکس کی وجہ سے دور سے دیکھنے والے کو یہ اندازہ لگانے میں شدید دشواری ہوتی تھی کہ گاڑی یا جہاز کس سمت میں، کس رفتار سے جا رہا ہے اور اس کا سائز کیا ہے۔یہ طریقہ کار پہلی بار 1917 میں جنگِ عظیم اول کے دوران برطانوی بحریہ کے ایک آرٹسٹ نے ایجاد کیا تھا تاکہ جرمن آبدوزوں کے حملوں سے بچا جا سکے۔ اس کا مقصد جہاز کو چھپانا نہیں بلکہ دشمن کو چکرانا تھا۔روسی فوج نے اپنی گاڑیوں پر کالے اور سفید رنگ کی ٹیڑھی میڑھی پٹیوں کا پینٹ کرنا شروع کر دیا ہے، جسے عسکری زبان میں ‘ڈیزل کیموفلاج’ یا زیبرا پیٹرن کہا جاتا ہے۔اس کا اصل مقصد یوکرین کے ان آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) یعنی مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈرونز کی ‘روبوٹک آنکھوں’ کو دھوکہ دینا ہے جو خودکار طریقے سے ہدف کو پہچان کر حملہ کرتے ہیں۔