خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکومت کی جانب سے ٹیکس کاٹنے کے بعد چاروں کان کنوں کو ان کا حصہ دے دیا جائے گا۔
رتن لال کا کہنا ہے کہ وہ اور اس کے ساتھی گزشتہ 15 سال سے کان کنی کررہے ہیں مگر کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ ہم پر قسمت اس طرح مہربان ہوئی ہو جیسے اب ہوئی ہے ۔
رتن لال نے مزید کہا کہ وہ اور ان کےساتھی ہیرے سےحاصل ہونے والی رقم اپنے بچوں کو بہتر زندگی فراہم کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔
One thought on “کان کنوں کو لاکھوں مالیت کا قیمتی ہیرا ہاتھ لگ گیا”