0

پنجاب میں عزادارن کے خلاف قائم مقدمات واپس لیے جائیں۔علامہ اقتدار نقوی

ملتان مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے پنجاب میں شیعہ عزاداروں کے خلاف بلاجواز مقدمات کے اندراج،گرفتاریوں اور چادر چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت ہمارے عزاداروں کے ساتھ وحشیانہ طرز عمل پر اُتر آئی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے مودی کی حکومت نے ریاستی جبر پر کمر باندھ رکھی ہو۔اختیارات کے ناجائز استعمال سے ہمیں دبایا نہیں جا سکتا۔ اگر حکومت اپنے غیر آئینی ہتھکنڈوں سے باز نہ آئی تو دمادم مست قلندر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تشیع کے ساتھ غیر منصفانہ اور نا روا سلوک کے خلاف آئینی پیٹیشن دائر کرنے کے بارے میں بھی غور کیا جا رہا ہے۔ریاستی ادارے اگر اپنے آپ کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں تو وہ مغالطے میں ہیں۔ عزاداری ہماری عبادت کا حصہ ہے۔ ہماری مجالس و جلوس کوئی سیاسی پارٹیوں کے اجتماع نہیں کہ جن پر پابندی لگائی جائے ۔وفاقی و صو بائی حکومتیں جمہوری انداز میں معاملات کو بہتری کی طرف لے جانے کی کوشش کریں۔ یہ کوئی بادشاہت یا ڈکٹیٹرشپ نہیں کہ عوام پر احکامات تھوپ دیے جائیں۔حکومت کو ایسے فیصلوں سے قبل سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہئے ۔ حساس نوعیت کے فیصلوں میں عوام سے مشاورت اور آراء کا تبادلہ انتہائی ضروری ہے ۔ اس سے قبل سانحہ عاشورہ پر ملت تشیع کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک برتا گیا وہ ہمیں ابھی تک یاد ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم روز اول سے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ۔مجلس وحدت مسلمین نے کسی بھی حکومت کی حمایت عوامی مفادات کو پیش نظر رکھ کر کی۔ اگر موجودہ حکومت نے اپنے رویہ نہ بدلا تو ہم اس کے مخالفین کی صف میں نظر آئیں گے ۔ ہم نے ہمیشہ اپنے عوام کا ساتھ دینا ہے۔ہمارا واحد مطالبہ ہماری عزاداری میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ہم مہذب قوم ہیں ۔ہم نے سو سو لاشیں رکھ کر بھی پُرامن احتجاج کیا ہے ۔ہماری اس امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب میں عزادارن کے خلاف قائم مقدمات واپس لیے جائیں اور یوم علی کی عزاداری کے جرم میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا انہیں فورا رہا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملتان انتظامیہ دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے کل جلوس دی گئی اور پرچے دیدیے۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں