ایل پی جی قلت کا بڑا خطرہ؛ امپورٹرز کا حکومت سے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ

Spread the love

اسلام آباد / جام پور (بیورو رپورٹ) پاکستان میں ایل پی جی کے شدید بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان  نے ملک میں گیس کی ممکنہ قلت کے پیش نظر وفاقی حکومت اور وزارتِ پیٹرولیم کو ہنگامی خط لکھ کر فوری مداخلت کی اپیل کر دی ہے۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اور متعلقہ اداروں کا فوری اجلاس بلا کر قیمتوں کے تعین کا مسئلہ حل کیا جائے تاکہ سپلائی چین کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔

وزارتِ پیٹرولیم کو بھیجے گئے مراسلے میں ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ مکرم وحید نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اوگرا        کی جانب سے 30 جون 2026 کو جاری کردہ قیمتوں کے نوٹیفکیشن اور ایل پی جی کی اصل درآمدی لاگت  میں بہت بڑا فرق ہے۔ اس تفاوت کے باعث درآمد کنندگان کو کروڑوں روپے کے مالی نقصانات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے کئی کمپنیوں نے اپنے آپریشنز کو محدود کرنا شروع کر دیا ہے۔

ایسوسی ایشن نے حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قیمتوں کا یہ تنازع فوری طور پر حل نہ کیا گیا، تو اگلے 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر ملک بھر میں ایل پی جی کی فراہمی معطل ہو سکتی ہے، جس سے گیس کا شدید بحران جنم لے گا۔

انڈسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 80 لاکھ سے 1 کروڑ خاندان اپنی روزمرہ زندگی میں ایل پی جی استعمال کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ملکی آبادی کا ایک بڑا حصہ (تقریباً 5 سے 7 کروڑ افراد) اس سے براہِ راست یا بالواسطہ جڑا ہوا ہے۔

  • ہوٹل، ریسٹورنٹس اور تندورچھوٹے تجارتی مراکز اور مخصوص صنعتی یونٹسسپلائی میں کسی بھی قسم کے تعطل کی صورت میں ان تمام شعبوں کو شدید دھچکا لگے گا اور لاکھوں صارفین کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔

مراسلے کے آخر میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ اس صورتحال کو روایتی بیوروکریٹک کارروائی کے بجائے “قومی اہمیت کا حامل مسئلہ” سمجھا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں۔ امپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی عدم دستیابی نہ صرف گھریلو چولہے ٹھنڈے کر دے گی بلکہ تجارتی و صنعتی پہیہ جام ہونے سے ملک کو مزید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top