واشنگٹن/بیجنگ: امریکی محکمہ خارجہ نے بیجنگ کے جوہری پروگرام پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چین انتہائی خفیہ اور غیر شفاف طریقے سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں غیر معمولی اضافہ کر رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکام نے ایک حالیہ بیان میں انکشاف کیا ہے کہ چین نے رواں ماہ 6 جولائی کو بحرالکاہل میں ایک بڑا میزائل تجربہ کیا، جس کی پیشگی معلومات دنیا کو انتہائی تاخیر سے دی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے اس اہم ترین تجربے سے محض چند گھنٹے قبل ہی اس کی تفصیلات شیئر کیں، جو کہ دنیا کی پانچ بڑی جوہری طاقتوں (پی 5) کے طے شدہ سفارتی اصولوں اور معیار سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق چین کا یہ غیر شفاف رویہ اور معلومات کو چھپانے کی کوشش خطے کے دیگر ممالک میں گہری تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین نے یہ تجربہ بحرالکاہل میں ایک جوہری آبدوز کے ذریعے بیلسٹک میزائل داغ کر کیا۔ اس مہم جوئی پر نہ صرف امریکہ بلکہ خطے کے اہم ترین ممالک بشمول جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور تائیوان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔