برطانوی میڈیا دی گارڈیئن کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک صدر ٹرمپ متعدد بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ چند ہی دنوں میں ہونے والا ہے تاہم ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت دھمکیوں اور امن معاہدے کے دعوؤں کے باوجود جنگی صورتِ حال میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی جس کے بعد صدر ٹرمپ کے بیانات کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔دوسری جانب وہ ایران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں۔
یر کے روز صدر ٹرمپ نے ایران کو ’مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران نے مذاکرات میں بہت دیر کر دی ہے اور اب اسے اس کی قیمت چکانا ہو گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب عمان کے ساحل کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر ایرانی ڈرون حملے میں تباہ ہو گیا، اس واقعے نے امریکی دعوؤں کو بھی چیلنج کیا جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کے پاس مؤثر فضائی دفاعی صلاحیت موجود نہیں۔
ایران کی جانب سے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں و تنصیبا پر میزائل اور ڈرون حملے بھی جاری ہیں، جواب میں امریکا نے ایران کے 20 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جن میں ریڈار اور فضائی دفاعی تنصیبات بھی شامل ہیں۔
دھ کے روز صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ قریب ہے لیکن ایران امریکا کو مسلسل ٹال رہا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے جس کے باعث دنیا کی 20 فیصد سے زائد تیل بردار بحری آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ ایک بار پھر ایران کے توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچے پر بڑے حملوں پر غور کر رہی ہے تاہم مبصرین کے نزدیک اس سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے اور امن کی راہ مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی حملوں اور دھمکیوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور ایران اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا
دی گارڈیئن کی رپورٹ میں شامل کیے گئے مبصرین کے تجزیے کے مطابق امریکا اپنی فوجی برتری کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
دوسری جانب ایران بھی مکمل پسپائی کے لیے تیار نظر نہیں آتا جس کے باعث جنگ، دھمکیوں اور ناکام مذاکرات کا سلسلہ بدستور جاری رہنے کا امکان ہے