0

شوکت ترین کا معاشی تجزیہ غلط، کابینہ میں بات کرینگے، اسدعمر

میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ کابینہ میں کس کو وزیر لگانا ہے کس کو نہیں لگانا یہ وزیراعظم کی صوابدید ہے، سندھ حکومت کو سائیں سرکار کہتے تھے اب انہیں تنقید سرکار کہنا چاہئے، سندھ حکومت کوئی کام نہیں کرتی صرف پریس کانفرنسز میں دوسروں پر تنقید کرتی ہے،حیدرآباد یونیورسٹی کے لئے ڈھائی سال میں ایک درجن مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست کرچکا ہوں، مرتضیٰ وہاب نے ماضی میں کہتے تھے کراچی پیکیج کے 1100ارب میں سے 700ارب روپے سندھ کے ہیں، اب کہہ رہے ہیں کہ وفاق نے کراچی کیلئے 1100ارب کے فنڈز جاری نہیں کیے، رواں سال ستمبر تک گرین لائن کی بسیں کراچی کی سڑکوں پر رواں دواں ہوں گی،کابینہ میں کس کو وزیر لگانا ہے کس کو نہیں لگانا یہ وزیراعظم کی صوابدید ہے، وزراء کی پرفارمنس اچھی رہی تو عمران خان کو کریڈٹ ملے گا، وزراء کی پرفارمنس بری رہی تو الزام عمران خان پر عائد ہوگا، شوکت ترین نے حکومت کی معاشی کارکردگی پر غلط تجزیہ پیش کیاکابینہ میٹنگ میں ان سے بات کریں گے، جہانگیر ترین سے متعلق اندر کی خبر تو نہیں لیکن جو نظر آرہا ہے وہ خطرے کی بات نہیں ہے، جہانگیر ترین کے گھر پر کچھ ایم پی ایز جارہے ہیں تو اس میں تحریک انصاف کے خلاف کوئی اقدام نظر نہیں آرہا۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ سندھ حکومت کو سائیں سرکار کہتے تھے اب انہیں تنقید سرکار کہنا چاہئے،سندھ حکومت کوئی کام نہیں کرتی صرف پریس کانفرنسز میں دوسروں پر تنقید کرتی ہے،وفاق نے سندھ کے عوام کی زندگی مشکل کی ہوئی ہے تو سندھ حکومت آسانی کیوں نہیں پیدا کرتی، حیدرآباد یونیورسٹی کے لئے میں ڈھائی سال میں ایک درجن مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست کرچکا ہوں، امین الحق بھی چھ سات دفعہ این او سی کیلئے سندھ حکومت سے درخواست کرچکے ہیں، وفاق سندھ میں پیسہ لگانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ روکتے ہیں۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب نے ماضی میں کہتے تھے کراچی پیکیج کے 1100ارب میں سے 700ارب روپے سندھ کے ہیں، اب کہہ رہے ہیں کہ وفاق نے کراچی کیلئے 1100ارب کے فنڈز جاری نہیں کیے، موٹروے کہیں نظر آرہی ہے تو چلیں ہمیں دکھادیں، موٹروے کی پچھلے ہفتے اصولی منظوری ہوگئی ہے، موٹروے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے فنڈ کررہے ہیں، اس فنڈنگ میں جو گیپ ہوگا اس کی منظوری اگلے ہفتے ہوجائے گی۔ اسد عمر نے کہا کہ سندھ حکومت کی تنقید سے فرق نہیں پڑتا کریڈٹ اسے ملے گا جو کام کرے گا، اندرون سندھ بجلی کی ترسیل کا نظام بہت ناقص ہے اس پر سرمایہ کاری نہیں کی گئی، وفاق نے سندھ میں گیس اور بجلی کا نظام بہتر بنانے کیلئے 52ارب روپے کے منصوبے پیکیج میں شامل کیے ہیں،سندھ حکومت سندھ کے عوام سے دشمنی میں وفا ق کو کام نہیں کرنے دے رہی، کراچی پیکیج کے 1100ارب روپے میں سے 625ارب روپے وفاق اور 500ارب روپے سندھ حکومت خرچ کرے گی۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ رواں سال ستمبر تک گرین لائن کی بسیں کراچی کی سڑکوں پر رواں دواں ہوں گی، گرین لائن بس کی پروٹوٹائپ 26اپریل کو تیار ہوجائے گی، جولائی کے آخر تک گرین لائن بسیں کراچی پہنچ جائیں گی، محمود آباد، گجر نالہ اور اورنگی نالہ میں تجاوزات ختم کر کے نکاسی کا منصوبہ بھی ستمبرمیں بن چکا ہوگا، محمود آباد نالہ سے تجاوزات کلیئر ہوچکی ہیں جبکہ گجر نالہ اور اورنگی نالہ سے تجاوزات ختم کرنے کا کام40فیصد ہوچکا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ حکومت کے فیصلوں پر کابینہ میں مشترکہ ذمہ داری کا تصور ہے، زیادہ تر بڑے فیصلے وفاقی کابینہ لیتی ہے، کابینہ میں کس کو وزیر لگانا ہے کس کو نہیں لگانا یہ وزیراعظم کی صوابدید ہے، وزراء کی پرفارمنس اچھی رہی تو عمران خان کو کریڈٹ ملے گا، وزراء کی پرفارمنس بری رہی تو الزام عمران خان پر عائد ہوگا، ذمہ داری عمران خان کی ہے تو فیصلہ بھی عمران خان کا ہونا چاہئے، حکومت کے اختتام پر لوگ ڈیلیوری دیکھیں گے کتنے وزراء بدلے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ معیشت گواہی دے رہی ہے کہ پاکستانی معیشت صحیح سمت میں جارہی ہے، مارکیٹ بارہ مہینے پہلے 28ہزار پر تھی آج 45ہزار پوائنٹس پر ہے، پاکستان کی برآمدات پہلے سے بہتر ہوگئی ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پچھلے چھ سال میں سب سے کم ہے، باہر سے ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر آرہی ہیں، حفیظ شیخ کے ماتحت معیشت بہتری کی طرف جارہی تھی،وزیراعظم معیشت کی مزید بہتری چاہتے ہیں اس لئے وزارت خزانہ میں تبدیلی کی۔ اسد عمر نے کہا کہ شوکت ترین نے حکومت کی معاشی کارکردگی پر غلط تجزیہ پیش کیا، شوکت ترین کے ساتھ کابینہ میٹنگ میں اس پر بات بھی کریں گے، پاکستانی معیشت جاں کنی کی کیفیت میں تھی آج اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی ہے، شرح نمو بڑھ رہی ہے پرائیویٹ سیکٹر کو اعتماد آرہا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ ہمیں جہانگیر ترین سے متعلق اندر کی خبر تو نہیں لیکن جو نظر آرہا ہے وہ خطرے کی بات نہیں ہے، جہانگیر ترین کے گھر پر کچھ ایم پی ایز جارہے ہیں تو اس میں تحریک انصاف کے خلاف کوئی اقدام نظر نہیں آرہا، راجہ ریاض کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے، جہانگیر ترین پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں یہ عمومی سیاسی بات ہے، میں نے کسی کو عمران خان یا تحریک انصاف کے خلاف بات کرتے ہوئے نہیں سنا، خبر تھی کہ ایک چھوٹے سے گروپ میں بات ہورہی ہے کہ وزیراعظم سے ملنا چاہتے ہیں،ہم سب کا بھی یہی خیال تھا کہ وزیراعظم کو ان سے ملناچاہئے، وزیراعظم نے کہا تھا میں مل لوں گا مجھے نہیں معلوم کہ ابھی تک ملاقات کیوں نہیں ہوئی، عمران خان کی ساری سیاست کی بنیاد ہی دو نہیں ایک پاکستان کی ہے، اس سے پہلے علیم خان اور سبطین نیب کیسوں میں جیل جاچکے ہیں، پرویز خٹک اور دیگر رہنما ؤں نے بھی انکوائریوں کا سامنا کیا ہے،وزیراعظم کہتے ہیں قانون سب کیلئے برابر ہے کسی قریبی ساتھی کیلئے تفریق نہیں کرسکتا، یہ عمران خان کی سیاست کی بنیاد ہے وہ اس سے ہل نہیں سکتے۔ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ پنجاب میں چینی کی ایکس مل قیمت 80روپے جبکہ ریٹیل قیمت 85 روپے ہوگی۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں