گزشتہ قسط میں ہم نے بات کی کہ نیشنل عوامی پارٹی کیسے وجود میں آئی، اس کے نظریات کیا تھے، اور بعد میں وہ کن آزمائشوں سے گزری۔لیکن تاریخ کبھی ایک جگہ نہیں رُکتی۔ہر واقعہ اپنے بعد ایک نئے واقعے کو جنم دیتا ہے۔
آج ہم اسی سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔آج ہم بات کریں گے ان دس برسوں کی، جنہوں نے پاکستان کی سیاست کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب ایک طرف مولانا عبدالحمید بھاشانی عوام کے حقوق کی آواز بلند کر رہے تھے، دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں ایک نیا نظام تشکیل پا رہا تھا۔1958 جب جمہوریت رک گئی
نیشنل عوامی پارٹی ابھی اپنے ابتدائی سفر میں تھی کہ اچانک پاکستان کی سیاست نے ایک خطرناک موڑ لیا۔
سات اکتوبر 1958۔ملک میں مارشل لا نافذ ہوا۔جنرل محمد ایوب خان اقتدار میں آگئے۔آئین معطل کر دیا گیا۔
سیاسی سرگرمیاں محدود ہونے لگیں۔اور یہ تاثر دیا گیا کہ اب ملک کو سیاست دان نہیں بلکہ مضبوط حکمران چلائیں گے۔
یہیں سے پاکستان میں ریاست اور عوامی سیاست کے درمیان ایک نئی کشمکش شروع ہوئی۔مولانا بھاشانی جیسے رہنما سمجھتے تھے کہ اگر عوام کی آواز دبائی گئی تو اس کے نتائج مستقبل میں بہت سنگین ہوں گے۔ایک سوال جس نے اقتدار کو پریشان کر دیا اس دور میں مولانا بھاشانی بار بار ایک ہی سوال اٹھاتے تھے۔اگر پاکستان تمام قومیتوں کا مشترکہ وطن ہے، تو پھر فیصلے صرف چند ہاتھوں میں کیوں ہیں؟اگر کسان اس ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، تو وہ سب سے زیادہ غریب کیوں ہے؟اگر مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ ہے، تو اسے اقتدار میں برابر کی نمائندگی کیوں نہیں ملتی؟یہ سوال صرف جلسوں میں نہیں گونج رہے تھے۔یہ سوال دیہات، یونیورسٹیوں، مزدور یونینوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں جگہ بنا رہے تھے۔1962 میں ایوب خان نے نیا آئین نافذ کیا۔صدارتی نظام متعارف کرایا گیا۔‘بنیادی جمہوریت’ کا تصور پیش کیا گیا۔حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ نظام ملک میں استحکام لائے گا۔لیکن اپوزیشن کی ایک بڑی تعداد کا خیال تھا کہ اس سے اختیارات مزید مرکز میں سمٹ جائیں گے اور عوام کی براہِ راست سیاسی طاقت محدود ہو جائے گی۔اسی زمانے میں مولانا بھاشانی سمیت مختلف سیاسی رہنما ملک بھر میں جلسے کرنے لگے۔وہ صرف حکومت کی مخالفت نہیں کر رہے تھے۔
وہ عوام کو سیاست میں شریک ہونے کی دعوت دے رہے تھے۔1964 میں ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے پاکستان کی سیاست میں نئی جان ڈال دی۔بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ملک کی تقریباً تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں ان کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔یہ انتخاب صرف دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ نہیں تھا۔یہ دو مختلف سیاسی سوچوں کا امتحان تھا۔انتخابات کے نتائج آج بھی تاریخ میں بحث کا موضوع ہیں، لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس انتخاب نے عوام کو دوبارہ سیاست میں متحرک کر دیا۔
پھر آیا 1965اسی سال پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی۔جنگ ختم ہوئی تو قوم کے سامنے نئے سوال کھڑے تھے۔معیشت، خارجہ پالیسی اور مستقبل کی سمت پر اختلافات بڑھنے لگے۔انہی اختلافات کے دوران ایک نوجوان اور مقبول وزیر، ذوالفقار علی بھٹو، حکومتی پالیسیوں سے کھل کر اختلاف کرنے لگے۔یہ اختلاف صرف دو شخصیات کا نہیں تھا۔یہ پاکستان کی آئندہ سیاست کا نیا موڑ تھا۔1966 تک ملک کی فضا بدل چکی تھی۔ایک طرف مولانا بھاشانی عوامی تحریک کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔دوسری طرف شیخ مجیب الرحمن مشرقی پاکستان میں صوبائی حقوق کی نئی بحث کو جنم دے رہے تھے۔اور اسی دوران ایک نوجوان، پُرجوش اور غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل سیاست دان، ذوالفقار علی بھٹو، اقتدار سے اختلاف کی راہ اختیار کر چکا تھا۔لیکن شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان کی آنے والی سیاست صرف ایک شخص نے نہیں لکھی۔اس کے پس منظر میں کئی ایسے دماغ اور کردار موجود تھے جن کا ذکر آج کم ہی ہوتا ہے۔
جے اے رحیم…ڈاکٹر مبشر حسن…حنیف رامے…معراج محمد خان…اور ان کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو۔
یہ وہ نام تھے جنہوں نے مل کر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک نیا باب لکھنے کی کوشش کی۔1967…لاہور…
میں ایک مختصر سا اجتماع…اور پھر وجود میں آئی ایک نئی جماعت…پاکستان پیپلز پارٹی۔لیکن کیا یہ جماعت اچانک وجود میں آئی تھی؟یا اس کی فکری اور سیاسی بنیادیں اس جدوجہد میں پہلے ہی رکھی جا چکی تھیں جس کا ذکر ہم گزشتہ دو اقساط میں کرتے آئے ہیں؟پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام، ذوالفقار علی بھٹو، جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشر حسن، حنیف رامے، معراج محمد خان اور ابتدائی منشور کو تاریخی ترتیب سے بیان کریں گے،اور ایک نئی جماعت کا قیام۔پاکستان پیپلز پارٹی کیسے بنی؟
اس کے بنیادی منشور میں کون سے نظریات شامل تھے؟اور کیا واقعی اس جماعت نے پاکستان کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا؟ان تمام سوالات کے جواب ہم اگلی قسط میں تلاش کریں گے۔تاریخ کا مطالعہ صرف ماضی کو یاد کرنے کے لیے نہیں کیا جاتا، بلکہ حال کو سمجھنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ستر سال پہلے بھی ایک بنیادی سوال یہی تھا کہ نظام عوام کے لیے ہے یا عوام نظام کے لیے؟شاید یہی سوال آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے۔اس سوال کا جواب ہم آپ پر چھوڑتے ہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کو تحقیق، تاریخی تسلسل اور مختلف نقطۂ نظر کے ساتھ سمجھا جائے تو سمعیز نیوز کو ضرور سبسکرائب کیجیے، اس ویڈیو کو شیئر کیجیے، اور کمنٹس میں اپنی رائے ضرور لکھیے۔