0

PSL| Pakistan Super League| Road to Popularity and Success

PSL: Pakistan Super League’s Road to Popularity and Success

تیسری پاکستان سپر لیگ کے مقابلے 3 فروری سے پوری آن بان شان کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں جاری رہنے کے بعد آج سے لاہور میں شروع ہوں گے اور اس بار فائنل کراچی میں کھیلا جائے گا۔ اس سے قطع نظر کہ موجودہ سیزن کا فاتح کون ہوگا، اس بار پی ایس ایل کے رنگ ہی جدا ہیں۔ پہلے سے زیادہ ٹیمیں، انعامی رقم میں اضافہ اور انداز بھی جدا۔ شوبز ستاروں سے لے کر کرکٹ لیجنڈز تک معروف شخصیات کی بڑی تعداد اسٹیڈیم میں رونق افروز ہے۔

ملازمت کے امتحانات کی تیاری کے لئے یہاں کلک کریں

پی ایس ایل کی ہر فرنچائز نے شوبز سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کواپنا سفیر بھی مقرر کر رکھا ہے۔ کرکٹ ٹیموں کی دبئی آمد سے لیکر افتتاحی تقریب اور میچز کے انعقاد تک سبھی کچھ لاجوا ب ہوا۔ البتہ کمی ہے تو صرف اسٹیڈیمز میں تماشائیوں کی، جس کی وجہ ظاہر ہے کہ کسی دوسرے ملک میں لیگ کا انعقاد ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ بہرحال وہ دن بھی دور نہیں جب پاکستان سپر لیگ کے مقابلوں کا انعقاد پاکستان کی ہوم گراؤنڈز پر ہوگا اور مقامی اسٹیڈیم تماشائیوں سے کھچاکھچ بھرے نظر آئیں گے، ان شاء اللہ۔

دنیا میں کرکٹ لیگ مقابلوں کی شروعات انڈین پریمیئر لیگ سے 2008 میں ہوئی، جس کا موازنہ آج عالمی سطح کی اسپورٹس لیگز مثلاً این اے بی امریکا اورپریمیئر لیگ برطانیہ سے کیا جارہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انڈین پریمیئر لیگ کو کرکٹ کےلیے بھارت میں پائے جانے والے جنون اور ایک بڑی مارکیٹ کی دستیابی نے غیرمعمولی کامیابی بخشی، جس کے بعد کرکٹ کھیلنے والے دیگر ممالک میں بھی کرکٹ کے فروغ اور مالی فائدے کےلیے لیگ کرکٹ کا سلسلہ شروع ہو۔ پہلے بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز، سری لنکا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا میں مقامی سطح پر کرکٹ لیگز منظم کی گئیں، جن میں سے سری لنکن پریمیئر لیگ 2012 میں ایک ایونٹ کے بعد سے التوا کا شکار ہے۔

گزشتہ سال جنوبی افریقہ کی گلوبل کرکٹ لیگ کا زور و شور سے اعلان کیا گیا مگر پہلے ہی سال اسپانسر نہ ملنے پر ملتوی کردی گئی، البتہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ اور کیریبین لیگ، جارجی پائی سپر اسمیش اور بگ بیش کا سفر جاری ہے۔

2016 میں پہلے سیزن کے آغاز پر پی ایس ایل کی تمام پانچ ٹیموں کی بولی 93 ملین ڈالر رہی۔ فی ٹیم اوسط مالیت 18.5ملین ڈالر رہی۔

اگر پی ایس ایل کا دوسری لیگز سے موازنہ کیا جائے تو بی پی ایل کے پہلے ٹیم آکشن میں کل 6.49 ملین وصول ہوئے، اوسطاً ایک ٹیم کی مالیت صرف 1.908 ملین ڈالر رہی۔ سری لنکا کی پریمیئر لیگ کی ٹیمیں ٹوٹل 30.15 ملین ڈالرمیں فروخت ہوئیں، اوسطاً ایک ٹیم 4.3 ملین ڈالر میں بکی۔ دوسری جانب 2010 میں آئی پی ایل کی صرف پونے واریئرز ہی 370 ملین ڈالرز میں فروخت ہوئی۔ اس سے قبل 2008 میں ہونے والے پہلے ٹیم آکشن میں فروخت ہونے والی 8 ٹیموں کی مالیت 723.5 ملین ڈالر وصول ہوئی۔ واضح رہے کہ آئی پی ایل نے فرنچائز کے مالکانہ حقوق تاحیات بنیادوں پر جاری کیے ہیں مگر پی ایس ایل کی جانب سے مالکانہ حقوق صرف 10 سال کےلیے دیئے گئے۔

اگر حساب لگایا جائے اور صرف تیسرے سیزن میں چھٹی ٹیم ’’ملتان سلطانز‘‘ کی 41.5 ملین ڈالرز کی غیرمعمولی بولی کو مدنظر رکھا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پی ایس ایل 10 سالہ مدت کی تکمیل پر دوبارہ آکشن میں آئی پی ایل ٹیموں کی ابتدائی قیمت کا ہمالیہ عبور نہ کرسکے۔

پاکستان سپر لیگ کے آغاز پر ناقدین کی جانب سے آخری وقت تک شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔ جہاں غیرملکی وینیوسے لیکر پلیئرز مارکیٹ سے سستی خریداری کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، وہیں اسپانسرز کی جانب سے نام نہاد بے توجہی کے خدشات کا بھی اظہار ہوا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ کم مگر حوصلہ افزا منافع سے آغاز کرنے والی پی ایس ایل اپنے تیسرے سیزن میں ہی دنیائے کرکٹ کی دوسری بڑی لیگ بن چکی ہے۔ ملتان سلطانز کی اچھی قیمت پر فروخت نے روشن مسقتبل کی نوید سنادی ہے۔ تیسرے سیزن میں پی سی بی نے ٹورنامنٹ کی پرائز منی اور میچز کی تعداد میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ پہلے دو سال ایک ملین ڈالر پرائز منی کے بعد اس بار انعامی رقم 3ملین ڈالر رکھی گئی جو آئی پی ایل کے بعد عالمی کرکٹ لیگز میں سب سے زیادہ ہے۔

آئی پی ایل نے 2008 میں پہلے سیزن میں انعامی رقم ایک ملین ڈالر رکھی جو آج دس سال بعد 6 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کی پرائز منی تیسرے سیشن میں 1.5 ملین ڈالر ہوئی، جس میں سے فاتح ٹیم کےلیے 0.7 ملین ڈالر ہیں۔ کیریبین لیگ میں پرائز منی ایک ملین ڈالر کے گرد گھوم رہی ہے۔ بگ بیش میں انعامی رقم رواں سال بڑھ کر 0.89 ملین ڈالر کردی گئی ہے۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں