
جام پور (خصوصی رپورٹ): جام پور شہر کی موجودہ غلاظت بھری صورتحال اور ناکارہ سیوریج سسٹم نے مقامی میونسپل انتظامیہ کی کارکردگی اور افسران کی ذمہ داری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہر کے متعدد علاقے گندگی کے ڈھیر اور بدبودار پانی کے جوہڑ میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس کے باعث شہریوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے اس صورتحال پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بلدیاتی اور انتظامی کاموں کے لیے فنڈز اور محکموں کی موجودگی کے باوجود بنیادی مسائل کا بوجھ بھی منتخب ارکانِ اسمبلی (ایم پی اے اور ایم این اے) پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟
شہریوں اور معززین علاقہ کا مؤقف ہے کہ عوامی نمائندگان اور انتظامیہ کو مسائل پیدا ہونے کے بعد عارضی طور پر انہیں رفع دفع کرنے یا صرف اپنی پبلک رینکنگ بہتر کرنے کی کوششوں کے بجائے میرٹ اور مستقل سسٹم کی مضبوطی پر توجہ دینی چاہیے۔ دو لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل اس حلقے میں، جہاں منتخب نمائندے یہاں کے جغرافیے اور عوامی مسائل سے بخوبی واقف ہوتے ہیں، وہاں پالیسی سازی اور سخت مانیٹرنگ کے ذریعے ایک مثالی اور منظم نظام بآسانی قائم کیا جا سکتا ہے۔
مقامی شہریوں کے مطابق حلقے میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے اور درج ذیل مسائل فوری توجہ کے طالب ہیں:
-
ناکارہ سیوریج سسٹم: سیوریج کے لیے خطیر فنڈز مختص ہونے کے باوجود زمینی سطح پر کوئی بہتری نظر نہیں آتی اور نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہے۔
-
شہر میں کیمیکل زدہ و مکس دودھ اور غیر معیاری و مہنگا گوشت سرعام فروخت ہو رہا ہے، جس پر متعلقہ فوڈ اتھارٹی اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں خاموش ہیں۔
-
ہسپتالوں میں ناقص انتظامات، سفارشی کلچر اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی نے شہریوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی فرد کے لیے ممبرِ اسمبلی منتخب ہونا اور عوام کی نمائندگی کرنا ایک انتہائی معزز اور ذمہ دارانہ منصب ہے۔ اگر منتخب نمائندے اپنے دائرہ اختیار میں انصاف، قانون کی بالادستی اور اصولوں کا نظام لاگو کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو الیکشن کے وقت کیے گئے عوامی وعدوں کی اہمیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔جام پور کے عوام نے اعلیٰ حکام اور منتخب قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صرف دفتری کارروائیوں اور تشہیری مہمات کے بجائے زمینی حقائق کا نوٹس لیں، مقامی انتظامیہ کو جوابدہ بنائیں اور جام پور کو صاف ستھرا ماحول فراہم کر کے شہریوں کو ان کا بنیادی آئینی حق دلائیں۔