برطانیہ: ای سی ایچ آر کا سہارا لینے والے تارکینِ وطن پر 5 ارب پاؤنڈز کے بھاری اخراجات کا انکشاف، نیا سیاسی تنازع کھڑا

مانچسٹر / لندن: برطانیہ میں مقیم ایسے غیر قانونی تارکینِ وطن جو گزشتہ برس انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کا سہارا لے کر ملک بدری سے بچنے میں کامیاب رہے، ان پر برطانوی ٹیکس دہندگان کے 5 بلین (5 ارب) پاؤنڈز خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ برطانوی وزارتِ داخلہ کے ایک حالیہ تجزیے میں یہ چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق، وزارتِ داخلہ کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ پناہ گزینوں کو ملک میں روکنے اور انہیں قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت کو خطیر رقم برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔
-
سال 2025 کے دوران تقریباً 35 ہزار افراد نے ای سی ایچ آر کے آرٹیکل 8 (نجی اور خاندانی زندگی کا حق) کا استعمال کرتے ہوئے برطانیہ میں رہنے کا حق حاصل کیا۔
-
ان افراد کی صحت، تعلیم، سماجی بہبود (ویلفیئر) اور پنشن کی مد میں قومی خزانے پر مجموعی طور پر 4.9 ارب پاؤنڈز کی لاگت آنے کا امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق، برطانوی چانسلر ریچل ریوز نے گزشتہ برس فلاحی بجٹ میں کٹوتیوں کے ذریعے ان اخراجات کو قابو کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم لیبر پارٹی کے اپنے ہی بیک بینچرز (ارکانِ اسمبلی) کی شدید مخالفت اور بغاوت کے باعث انہیں اپنے اس منصوبے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
اس تجزیے کے سامنے آنے کے بعد امیگریشن کی پالیسی پر بحث دوبارہ تیز ہو گئی ہے۔ ٹوری حکومت کے سابق وزیرِ امیگریشن اور اب ‘ریفارم یو کے’ کے اہم رہنما رابرٹ جینرک نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا
انسانی حقوق کا یہ یورپی کنونشن اب ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے، کیونکہ اس قانون کی آڑ میں غیر ملکی مجرموں کو بھی برطانیہ میں قیام کا موقع مل جاتا ہے۔ اب یہ بات بالکل صاف ہو چکی ہے کہ اس ناقص نظام کا خمیازہ برطانوی عوام کو بھاری مالی قیمت چکا کر بھگتنا پڑ رہا ہے۔