0

جامپور – داجل نہر کی حالت ذار | تحریر : محمد عدنان تاثیر

بخدمت جناب صوبائی وزیرِ آبپاشی صاحب

عنوان: درخواست براۓ مٹی ڈلواۓ جانے

جناب عالیٰ!
مؤدبانہ التماس ہے کہ فدوی نے چند روز پہلے ڈی جی کینال پُل واقع داجل روڈ کے حوالے سے وزیراعلیٰ صاحب کی خدمت میں ایک عرضی گوش گزار کی تھی جس کا فوری جواب موصول ہوا اور بندہِ ناچیز کو حکم دیا گیا کہ متعلقہ و مجاز افسران یا وزیر سے رجوع کریں۔ بندہِ ناچیز ایک لاعلم و کندذہن ہونے کیوجہ سے اپنے ذہین و فطین دوستوں کے پاس اُن متعلقہ و مجاز افسران / وزیر کے بارے معلومات لینے پہنچا تو جامپور کے نامور فیس بُکی دانشوروں نے بتایا کہ یہ پُل چونکہ نہر پر بنائی گئی ہے تو صوبائی وزیرِ آبپاشی سے درخواست کرو۔ حضور والا بندہِ ناچیز کو جب اس بات کا علم ہوا تو بندہ پھولے نہ سمایا کہ یہ تو اپنے ہی علاقے بلکہ اپنے ہی حلقے کے وزیر ہیں اور احقر کی خوشی اس وقت دوبالا ہو گئی جب یہ یاد آیا کہ ناچیز نے بھی آپکو ہی ووٹ ڈالا تھا۔
جناب والا! الیکشن مہم کے دوران آپکے وژن خلوص اور اعلیٰ تعلیم کے چرچے گلی گلی نگر نگر پھیلے ہونے کی وجہ سے فدوی بھی انہی متاثرین میں شمار تھا اور ووٹ ڈالتے وقت پہلی بار اطمینانِ قلب نصیب ہوا تھا کہ اس بار صحیح نشان و بہترین امیدوار پر ٹھپہ لگا آیا ہوں چنانچہ پہلے تو یہی خیال آیا کہ آپ چونکہ ایک ویژنری لیڈر ہیں تو آپکو مذکوہ مسئلے کا بخوبی علم ہو گا کہ مذکورہ مسئلہ آپ ہی کے حلقے کا ہے مگر بعد میں سوچا کہ وزارت کا قلمدان سنبھالنا کوئی عام بات نہیں پورے صوبے کے مسائل کا انبار اور اکیلی جان! یہ سوچتے ہی کاغذ قلم لیا اور بیٹھ گیا کہ آپ کو ایک اہم ترین اور گھمبیر مسئلے کی نشاندہی کرنے کی جسارت کر لوں۔
جناب والا!
مذکورہ پُل کئی دہائیاں پہلے بنایا گیا تھا جس کی افادیت و اہمیت پر لکھنے بیٹھ جاؤں تو ایک دفتر کھل جاۓ گا فی الحال مدعے پر روشنی ڈالنا چاہوں گا۔ پُل چونکہ نہایت ہی خستہ حال اور پرانا ہے (جس کی عمر بارے مؤرخ کے ساتھ ساتھ فیس بکی دانشور بھی خاموش ہیں) لہذا آۓ روز اس قدیم پُل پر گڑھے پڑ جاتے ہیں پہلے پہل پُل کے شرقی حصے پر دو تین جگہ سے گڑھے بن جاتے تھے جن کو حالات وقت اور بجٹ کو مدِنظر رکھتے ہوۓ مٹی ریت پتھر یا درخت کے تنے رکھ کر بند کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی رہی مگر گڑھے تھے کہ کسی رشوت خور افسر کے پیٹ کیطرح بھرتے ہی نہ تھے آخر کب تک اس دوزخ کو ایندھن دیا جاتا! لہذا جو بھی ٹرک بس رکشے گدھا ریڑھیاں یا ٹریکٹر ٹرالیاں گزرتیں وہ اس قیمتی مال میٹریل کو ”نیکی کر نہر میں ڈال“ کے سنہری قول پر عمل پیرا ہوتے ہوۓ اپنے پہیوں تلے روندتے ہوۓ گزر جاتیں۔ آخر انتظامیہ نے بھی تنگ آکر ان کی بھرائی کرنا چھوڑ دی ہاں کبھی کبھار کسی راہ گیر کو ترس یا رحم آ جاتا اور اُس کا دل انسانیت کے عظیم جذبے سے سرشار ہو جاتا تو کسی کیکر کے درخت کی شاخ ٹہنی یا لڑ کو اس خوبصورتی سے گڑھے میں لگا دیتا کہ دور سے دیکھنے پر کسی رقص کرتی حسینہ کا گماں ہوتا۔ علاقہ مکین اور راہ گیروں کا کہنا ہے کیکر کی اس ٹہنی شاخ یا لڑ کی عمر دوسرے حفاظتی اقدامات میں سب سے زیادہ رہی ہے اور اسکی وجہ پُل کے کنارے بیٹھے ایک مجذوب نے یہ بتائی کہ راہ گیر اس کانٹے دار جھاڑی سے ٹھیک اسی طرح اپنی گاڑی بچا کر گزرتے جس طرح ایک زاہد زندگی کی پگڈنڈی پر گناہوں سے دامن بچا کر گزرتا ہے۔
گڑھوں کی بھرائی کا یہ مسئلہ آۓ روز ایک نئی سمسیا کا موجب بننے لگا۔ جنابِ والا آپ اس مسئلے کے حل ہونے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جو قوم پچھلے ستر سال سے ہر طرح کے دکھ اور تکالیف برداشت کرتی آ رہی تھی اُس قوم نے اِن گڑھوں کی مرمت یا بھرائی کے لئے آوازِ حق بلند کرنا شروع کر دی اور فیس بُک پر اس شدت سے احتجاج کیا گیا کہ نوٹیفیکیشن کی بھر مار سے انتظامیہ کے مہنگے ترین سمارٹ فونز لرز اٹھے اور اُنکی فیس بک آئی ڈیز Hang ہو گئیں تو انتظامیہ نے نہ چاہتے ہوۓ ان گڑھوں کو لوہے کی موٹی موٹی چادروں سے ڈھانپ دیا گیا۔ لوہے کی ان چادروں کی مضبوطی کا حوالہ دیتے ہوۓ ویلڈر نے دعویٰ کیا تھا کہ ان پر سے فل لوڈ 22 وہیلر ٹرالہ بھی گزر جاۓ تو بھی انہیں کچھ نہ ہو گا اور وقت نے ثابت کیا کہ دس ماہ ہو گئے لوہے کی وہ چادریں جوں کی توں پڑیں ہیں۔
حضورِ والا! اب مسئلہ یہ ہے کہ پُل کے شرقی حصے کی طرح غربی جانب بھی ایک وسیع و عریض گڑھا بن چکا ہے جو کہ بعینہ شرقی گڑھوں کی طرز کے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ انتظامیہ کو جب اس گھمبیر مسئلے کا پتہ چلا تو فوری طور پر اس گڑھے کی بھرائی کے لئے اینگرو یوریا کے کٹے بچھا کر مٹی سے بھر دیا گیا جو کہ آٹھ دس دن آرام سے نکال گئے اب وہ کٹے بورٹے اس گناہ گار عوام کے ساتھ ساتھ آلودہ گاڑیوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں اور گڑھا پھر سے بلیک ہول کا منظر پیش کر ریا ہے۔
جنابِ والا! سابقہ حکومت چونکہ عیاش اور کرپٹ تھی اور اوپر سے الیکشن بھی سر پر تھے تو اُس وقت موقع کی مناسبت سے ہی حاتم طائی کی قبر کو لات ماری گئی اور لوہے کی چادریں ڈالی گئیں۔ اب چونکہ موجودہ حکومت کو ایک تباہ حال معیشت اور قرضوں سے لدا پھدا اقتدار ملا ہے جس کی وجہ سے حکومت کفایت شعاری جیسے بہترین فعل کو اپناۓ ہوۓ ہیں لہذا یہ عوام آپ سے استدعا کرتی ہے کہ ان گڑھوں کو لوہے کی چادروں سے نہ سہی انہی کٹوں بورٹوں سے ہی دوبارہ ڈھک دیا جاۓ۔ حکومتی وزراء کا دعویٰ ہے کہ اس بار سول و عسکری قیادت ایک ہی پیج پر ہے تو براۓ مہربانی اس بار کٹے بورٹے فوجی فرٹیلائزر والے ہوں تاکہ پانچ سال آسانی سے نکال سکیں۔

حضور کی عین نوازش ہو گی

الــــــــــــــــــــعـــــــــــــــــــــــــــــــــارض

پُل کی شرقی جانب بیٹھا ایک گردآلود مجذوب

داجل پنجاب کے پسماندہ ترین ضلع راجن پور کا پسماندہ تریں علاقہ ہے ۔ درج ذیل مضمون جام پور سے داجل جاتے ہوئے راستے میں پڑنے والے پل پر لکھا گیا ہے۔ یاد رہے سابقہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار شیر علی کے گھر کر جانے والا یہ واحد راستہ ہے اور ان کی گاڑی ہمیشہ اسی پل سے گزر کے ہی جاتی ہے۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں