عوامی خدمت کا جذبہ اور روایات کی پاسداری: ایک مثبت قدم

عوامی خدمت کا جذبہ اور روایات کی پاسداری: ایک مثبت قدم
عوامی خدمت کا جذبہ اور روایات کی پاسداری: ایک مثبت قدم
لغاری قبیلےکے سربراہ (چیف آف لغاری ٹرائب سردار جمال خان لغاری

عوامی خدمت کا جذبہ اور روایات کی پاسداری: ایک مثبت قدم
آج سوشل میڈیا پر ایک بحث زیرِ گردش ہے
کہ سردار محمد جمال خان لغاری صاحب کس حیثیت میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کر رہے ہیں؟
تنقید کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن حقائق کو جاننا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
سردار جمال خان لغاری صاحب کی اس کچہری کے پیچھے درج ذیل ٹھوس وجوہات اور ان کا “قانونی و اخلاقی” استحقاق موجود ہے:
قبیلے کی سربراہی (چیف آف لغاری ٹرائب ہیں :
سردار جمال خان لغاری صاحب لغاری قبیلے کے متفقہ سردار ہیں۔ ایک قبائلی معاشرے میں سردار کی حیثیت صرف نام کی نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے لوگوں کے حقوق کا محافظ ہوتا ہے۔ اپنی قوم اور علاقہ کے مسائل سننا اور انہیں حل کرنا ان کی دیرینہ خاندانی روایت اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
:
وہ میپکو (MEPCO) کے سابق چیئرمین بورڈ آف گورنرز رہ چکے ہیں۔ بجلی کے معاملات، ٹیکنیکل باریکیاں اور انتظامی ڈھانچے پر جتنی مضبوط گرفت ان کی ہے، وہ بہت کم لوگوں کے پاس ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کس مسئلے کو کس سطح پر حل کروانا ہے۔:
لغاری خاندان اس وقت ملک کے اہم ترین سیاسی ایوانوں میں عوامی نمائندگی کر رہا ہے:
• وفاق میں: ان کے چھوٹے بھائی سردار اویس خان لغاری وفاقی وزیر توانائی ہیں (جو میپکو کے براہِ راست نگران ہیں)۔
• قومی اسمبلی میں: ان کے بھتیجے سردار عمار لغاری اور سردار محمود قادر لغاری عوامی آواز بلند کر رہے ہیں۔
• صوبائی اسمبلی میں: سردار علی یوسف لغاری اور خاندان کے دیگر اراکین فعال ہیں۔
:
سردار جمال خان لغاری اس تمام سیاسی قوت اور عوام کے درمیان ایک مضبوط پل (Bridge) کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی کھلی کچہری کا مقصد بیوروکریسی کی رکاوٹوں کو ختم کر کے براہِ راست وفاقی وزیر اور ایوانوں تک غریب عوام کی رسائی ممکن بنانا ہے۔
جب ایک ایسی شخصیت، جس کے خاندان کے پاس وفاقی و صوبائی وزارتیں اور نشستیں ہوں، خود چل کر عوام کے درمیان بیٹھتی ہے، تو یہ خوش آئند ہے۔ اس کا فائدہ صرف اور صرف عوام کو ہوگا کیونکہ ان کی رسائی براہِ راست پالیسی سازوں تک ہے۔
تعصب اور اعتراض کی عینک اتار کر دیکھیں تو یہ عوامی خدمت کی ایک بہترین مثال ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *