کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات، وزیراعظم کا انٹرویو موضوع بحث بن گیا
Posted on by
کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات، وزیراعظم کا انٹرویو موضوع بحث بن گیا
وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو ترک میڈیا کو جو انٹرویو دیا گوکہ اس کی تفصیلات نیشنل میڈیا پر نہیں دکھائی گئیں تاہم سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع نے انٹرویو کے بعض حصے پاکستانی میڈیا کو فراہم کئے ہیں جس میں ترک نمائندے کے سوالوں کے جواب میں وزیراعظم کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے کہ مفاہمتی عمل کے تحت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کچھ گروپوں سے ہتھیار ڈالنے کی بات چیت کی جارہی ہے کیونکہ یہ گروپس ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں،
پاکستانی قیادت کی جانب سے یہ بات پہلی مرتبہ نہیں کی گئی اس سے قبل صدر پاکستان عارف علوی بھی اپنے ایک انٹرویو میں اسی مفہوم میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ کالعدم تحریک طالبان کے جو اراکین جرائم میں ملوث نہیں ہیں اور ٹی ٹی پی کے متشدد نظریات کو چھوڑ کر پاکستان کے آئین کیساتھ چلنا چاہتے ہیں تو حکومت ان کیلئے عام معافی کے بارے میں سوچ سکتی ہے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی 15 ستمبر 2021کو ایک برطانوی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ٹی ٹی پی قانون ہاتھ میں نہ لینے اور دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے کی یقین دہانی کراتی ہے، حکومت اور آئین پاکستان کی رٹ کے سامنے ہتھیار ڈالے تو ہم انہیں معافی دینے کیلئے تیار ہیں ، وزیراعظم کی پیشکش پر بعض سیاستدانوں اور دیگر طبقات کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔